نچن آباد: تحصیل منچن آباد، میکلوڈ گنج اور منڈی صادق گنج میں گیس سلنڈرز کی مبینہ طور پر مقررہ نرخوں سے زائد قیمت پر فروخت کے خلاف عوامی حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
عوامی حلقوں کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے 11 کلو 800 گرام وزنی گیس سلنڈر کی قیمت 3,300 روپے مقرر کیے جانے کے باوجود مبینہ طور پر گیس 550 سے 600 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کی جا رہی ہے، جس سے مہنگائی کے ستائے غریب اور مزدور طبقے کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
اس معاملے پر اسسٹنٹ کمشنر منچن آباد جام اسلم اور ڈپٹی کمشنر بہاولنگر سید عباس شاہ کو بھی آگاہ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم شکایت کنندگان کے مطابق تاحال مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آئی۔
شہریوں نے الزام عائد کیا کہ پیرا فورس کی کارروائیاں زیادہ تر ریڑھی بانوں تک محدود دکھائی دیتی ہیں، جبکہ گیس کی مبینہ ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے نے محنت کش طبقے کی مشکلات بڑھا دی ہیں اور کئی خاندانوں کے لیے روزمرہ کھانا پکانے کے اخراجات برداشت کرنا دشوار ہو گیا ہے۔
عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے اپیل کی ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر منچن آباد اور ڈپٹی کمشنر بہاولنگر کو مقررہ نرخوں پر گیس کی فروخت یقینی بنانے، قیمتوں کی باقاعدہ نگرانی کرنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایات جاری کی جائیں۔
شہریوں نے مطالبہ کیا کہ پیرا فورس کو بھی گیس کی مبینہ ناجائز منافع خوری کے خلاف مؤثر کارروائی کا پابند بنایا جائے تاکہ غریب اور مزدور طبقہ ریلیف حاصل کر سکے اور اپنے خاندانوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست آسانی سے کر سکے۔